جز: تَبَارَكَ الَّذِي سورة ‎الحاقة
وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ ﴿ۙ۴۴﴾

۴۴۔ اور اگر اس (نبی) نے کوئی تھوڑی بات بھی گھڑ کر ہماری طرف منسوب کی ہوتی،

44۔ تَقَوَّلَ : کسی بات کا گھڑ لینا۔ اس میں اس بات کی وضاحت ہے کہ قرآن میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ اس آیت سے حدیث غرانیق کی تکذیب ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورۂ النجم میں اپنی طرف سے ایک آیت کا اضافہ کیا تھا۔ (معاذ اللہ)