جز: وَقَالَ الَّذِينَ سورة ‎الشعراء
وَ یَضِیۡقُ صَدۡرِیۡ وَ لَا یَنۡطَلِقُ لِسَانِیۡ فَاَرۡسِلۡ اِلٰی ہٰرُوۡنَ﴿۱۳﴾

۱۳۔ اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان نہیں چلتی سو تو ہارون کو (پیغام) بھیج (کہ میرا ساتھ دیں)۔

13۔ ضیق صدر ، زبان کی کندی، خوف تکذیب ، وہ تین باتیں ہیں جن کی وجہ سے موسیٰ (ع) نے ہارون (ع) کو بھی اپنے ساتھ شریک رسالت کرنے کی درخواست کی اور ساتھ اس واقعے کی طرف اشارہ کیا جس میں حضرت موسیٰ (ع) نے آل فرعون کے ایک شخص کو قتل کیا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ وہ مجھے دعوت دینے کا موقع ملنے سے پہلے ہی قتل کر دیں گے۔ اللہ نے فرمایا: آپؑ کو کوئی خوف لاحق نہیں ہونا چاہیے۔ آپؑ کو بچانے والی ذات مَعَكُمْ آپؑ کے ساتھ ہے اور آپؑ کے درمیان ہونے والی گفتگو سن رہی ہے۔ یعنی آپؑ اللہ کے تحفظ میں ہوں گے۔