جز: سُبْحَانَ الَّذِي سورة ‎الإسراء
اُنۡظُرۡ کَیۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ اَکۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکۡبَرُ تَفۡضِیۡلًا﴿۲۱﴾

۲۱۔ دیکھ لیجیے: ہم نے کس طرح ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور آخرت تو درجات کے اعتبار سے زیادہ بڑی اور فضیلت کے اعتبار سے بھی زیادہ بڑی ہے۔

21۔ دنیا میں محنت اور کوشش کی بنا پر بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے۔ جو زیادہ محنت کرتا ہے اس کے پاس زیادہ مال و دولت ہوتی ہے۔ اسی سے آخرت کا حال بھی قابل فہم ہو جاتا ہے کہ وہاں بھی سعی اور کوشش یعنی عمل کے ذریعے بعض کو فوقیت حاصل ہو گی۔ مگر دنیا میں جو مال و جاہ میں فضیلت حاصل ہوا کرتی ہے، اس سے آخرت کی فضیلت بہت زیادہ بڑی ہے۔ دنیا کا مال و دولت، جاہ و سلطنت ناپائیدار اور آخرت کے درجات و فضیلت ابدی اور دائمی ہیں۔