جز: رُبَمَا سورة ‎الحجر
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ﴿۹﴾

۹۔ اس ذکر کو یقینا ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

9۔ اس آیت میں پورے تاکیدی لفظوں کے ساتھ متکلم کی تین ضمیریں اِنَّا ، نَحْنُ ، نَزَّلْنَا لا کر فرمایا: اس ذکر کو ہم نے خود نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔ چنانچہ آج اس محافظت کو ہم واضح طور پردیکھ رہے ہیں کہ آسمانی کتابوں میں صرف قرآن مجید لفظ بہ لفظ محفوظ ہے، بلکہ طرز و طریقۂ تحریر تک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ قرآن مسلمانوں کے ہاتھوں یداً بیدٍ اورنسلاً بعد نسلٍ تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح جنگ احد یا فتح مکہ کا واقعہ تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔