جز: وَمَا أُبَرِّئُ سورة ‎إبراهيم
الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ لِتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ۙ بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ۙ﴿۱﴾

۱۔ الف لام را،یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو ان کے رب کے اذن سے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں، غالب آنے والے قابل ستائش اللہ کے راستے کی طرف۔

1۔ قرآن ضلالت کی تاریکیوں سے ہدایت کے نور کی طرف لے جانے والی کتاب ہے۔ وہ نور خدائے ذوالجلال کا راستہ ہے۔ اس قرآن کی اہمیت کا کیا کہنا کہ یہ انسان کو ابدی راستے کے لیے نور کا کام دیتا ہے اور کل کائنات کے مالک کے دربار تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔